تبسم ہی تھا ISBAH SHAH


اٌج کے دن تمھارا جنم ہی تھا
ہونٹوں پہ تمھارے تبسم ہی تھا
اٌج کےدن جو کہا تھا وہ کیا؟
تمھارا انداز تکلم ہی تھا
صبح جس سے میں ملا تھا
یقیں ہے تمھارا پریتم ہی تھا
میں نے کرلی اس سے ملاقات
میرے دل پہ یہ ستم ہی تھا
اٌج اس سے ملے تو یاد اٌیا ثمر
کبھی میں بھی تمھارا صنم ہی تھا