اٌگ کے شعلوں میں جو جل رہے ہیں
ظمتوں کے سائے میں جو پل رہے ہیں
اپنی اٌزادی کی خاطر
انجان راہگزاروں پہ جو جل رہے ہیں
اک ڈوبتے سورج کیطرح
ہر روز جو ڈھل رہے ہیں
کچرے ے ڈھیروں کیطرح
صدیوں سے جو گل رہے ہیں
سڑکوںپہ سرعام چو قتل عام ہے
اپنے ہی خوں سے جنکے کفن دھل رہے ہیں
یہ کون ہیں انکو پہچانو
اس حقیقت کو کڑوے زہر کو مانو
تم جاتے ہو کہاں چین
یہ ہیں کشمیر کے مجاھدین
کچھ سوچو انکے بارے میں
انکی قسمت کے بارے میں
ان حالات کے ماروں کے لئے
کچھ کرو ان بیچاروں کے لیئے

Bookmark Site