ہنس کر کرو


جو دکھ ملتے ہیں انکو ہنس کر سہو
جو بات بری لگے اسے ہنس کر سنو

مسکرانا تو شامل ہے اپنا فطرت میں
ہر اک سے یہ بات ہنس کر کہو

داغ بدنامی نہ اٌئے لباس کردار پہ
د اغ لگ جائے اسے ہنس کر دھوئو

رونا نہیں کسی کے سامنے مگر ۔ ۔ ۔ ۔
رون بھی اٌئے تو ہنس کر روئو

عیاں نہ ہوجائے کھی چہرے سے
جو کام کرنا ہے ہنس کر کرو