ISBAH SHAH اٌنسو نکل رہے ہی


اٌنکھ سے اٌنسو نکل رہے ہیں
دل ہمارے پگھل رہے ہیں

بہت گھونٹا ہم نے گلا مگر
ارماں پھر بھی مچل رہے ہیں

وقت کے ساتھ چلنا ہے اسلئے
تھوڑا تھوڑا سنبھل رہے ہیں

اپنے اٌپکو تسلیاں دیکر
اٌپ ہی اٌپ بہل رہے ہیں

کو اپنے مسل رہے ہیں
اٌنکھ سے اٌنسو نکل رہے ہیں

بہت بچایا خودکو تم سے
پر خود سے نہ گبھی سنبھل رہے

خودکو جدا کرنے کے لئے
اسی لئے تم سے بدل رہے ہیں

ہم دونوں کی ہماٌہنگی کے باوجود
ذہنوں میں پھر بھی خلل رہے ہیں

جذ بےہمارےگھل رہے ہیں
اٌنکھ سے اٌنسو نکل رہے ہیں