ROTA RAHA HOON PEHRO TANHIYE SE LIPAT KE


غزل
روتا رہا ہوں پہروں ت ہائی سے لپٹ کے
آ کھوں میں آگیا ہے دریا مرے سمٹ کے
حدّ گاہ تک میں تکتا رہا تھا جسکو
دیکھا ہ اُس ے لیک اک بار بھی پلٹ کے
اب پوچھتا بھی کوئی ہم کو تو آج کیسے
ہم ے وقار کھویا ،فرقوں میں آج بٹ کے
ہم ے اذا دی جب ت ہائی کے کھ ڈر میں
آواز میری آئی کا وں میں خود پلٹ کے
مستی میں جھومتی ہے رخسار چومتی ہے
ہم سے صیب اچّھے ہیں اس سیاہ لٹ کے
ہو جائے اک پل میں سارا جہاں معطّر
ب جر زمیں پہ دل کے غ چہ جو کوئی چٹکے
لُطفِ وصال کیا ہے جو ہجر میں مزا ہے
آیا ہے آج گھر سے جملہ یہی وہ رٹ کے
ساقی ے ہاتھ ایسا کھی چا ہے میکدے سے
تلچھٹ کا کیا کہوں میں سوکھے ہوئے ہیں مٹکے
وہ حال کردیا ہے اہلِ خرد ے اشہر
سائے بھی رہ گئے ہیں قد سے ہمارے گھٹ کے