اٌنکھ سے اٌنسو نکل رہے ہیں
دل ہمارے پگھل رہے ہیں
بہت گھونٹا ہم نے گلا مگر
ارماں پھر بھی مچل رہے ہیں
اٌنکھ سے اٌنسو نکل رہے ہیں
دل ہمارے پگھل رہے ہیں
بہت گھونٹا ہم نے گلا مگر
ارماں پھر بھی مچل رہے ہیں
اٌج کے دن تمھارا جنم ہی تھا
ہونٹوں پہ تمھارے تبسم ہی تھا
اٌج کےدن جو کہا تھا وہ کیا؟
تمھارا انداز تکلم ہی تھا
اٌگ کے شعلوں میں جو جل رہے ہیں
ظمتوں کے سائے میں جو پل رہے ہیں
اپنی اٌزادی کی خاطر
میں نے پوچھا
کیا ہے وہاں؟
کہنے لگی کہاں
کہا میں نےچھائی ہے
کہر یا ہے موسم دھندلا
اٌج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! ! !
جو دکھ ملتے ہیں انکو ہنس کر سہو
جو بات بری لگے اسے ہنس کر سنو
مسکرانا تو شامل ہے اپنا فطرت میں
جیون میں بہت سی خوبصوتیاں ہوتی ہیں
کچھ دوستوں سے ہماری دوستیاں ہوتی ہیں
کچھ کا من سیاہ خون سے بھرا ہوتا ہے
اگر اٌپ لوگ میری درخواست پڑھکر اسپر عمل کریں گے تو یہ تو میرے لیےٴ ایک اعزاز کی بات تو ہوگی ہی ساتھ ہی اٌپ میری ک
MOHABBAT KI SURAT
WOH SURTAIN K JINMY HUM APNA AKS DEKHTY HAIN
SHABEEH DEKHTY HAIN APNA HUSN DEKHTY HAIN
YEHI WOH DIL K ISMAIN KISI KI CHAHAT KA RANG
MERI AMMI SAB SY ACHI
MAIN HUN UN KI BARI BACHI
LAGY JIS KO MAA KI DUA
RUTHY KABHI NA US SY KHUDA
AMMI KI REHTA HY GHUSSA NAK PER
JO NIKALTA HY BECHARY ABBU PER
KARY JO UN K SAMNY TER TER
ہمیشہ رکھے خدا گھر تمہارا آبادجہاں ہو خوشیاں جیو ہزاروںسال